4 اگست 2012 - 19:30

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مسلم ممالک پر استعماری اور سامراجی طاقتوں کے مظالم، تسلط اور تجاوز کے خلاف علامہ عارف الحسینی کی جدوجہد پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے، آپ نے قبلہ اول اور فلسطین پر اسرائیلی تسلط اور ناجائز قبضے، افغانستان پر روسی جنگ اور امریکہ کی طرف سے عراق کی پشت پناہی کرکے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔

ابنا: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر و سربراہ شیعہ علماء کونسل علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ قائدین ملت علامہ سید محمد دہلوی مرحوم ، علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم اور قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی  نے عوام کے حقوق کی جس جدوجہد کا آغاز کیا اور ملک میں اتحاد و وحدت کی کوششیں کیں، ہم آج بھی اسی فکر سے الہام لیتے ہوئے تمام تر مشکلات و مصائب کے باوجود جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اعلٰی و پاکیزہ اہداف کی خاطر وجود میں آنے والا یہ کارواں رواں دواں ہے۔

قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی  کی 24 ویں برسی کے موقع پر کراچی، لاہور اور دیگر مقامات پر اجتماعات سے خطابات کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ قائد شہید علامہ عارف الحسینی کی شخصیت پاکستان میں وحدت امت اور اتحاد بین المسلمین کی علامت تھی، جنہوں نے اپنی جان اسلام اور پاکستان کے استحکام اور تشیع کے حقوق کے دفاع کے لئے پیش کر دی، لیکن دشمن اسلام کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تعصبات، مسلکی اختلافات، انتہاپسندی، شدت پسندی، جنونیت اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل موجود تھے اور دور حاضر میں بھی ملک کو ان مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے علامہ حسینی نے اتحاد و وحدت اور صبر و حکمت کا راستہ اختیار کیا تھا، ہم بھی ان کے راستے پر قائم ہیں اور ہزارہا قربانیاں دے کر بھی ہم نے اتحاد و اخوت کی راہ کو ترک نہیں کیا۔

علامہ عارف الحسینی نے جہاں پاکستان کے داخلی بحرانوں کے حوالے سے پاکستانی عوام کی رہنمائی کی، وہاں عالمی سطح پر موجود بحرانوں اور عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حوالے سے بہترین موقف پیش کیا اور اس موقف کی روشنی میں عملی کردار ادا کیا۔ انہوں نے آمریت کی شکل میں پاکستان پر کئے جانے والے تسلط کو چیلنج کیا اور ملک کو جمہوریت کے راستے پر ڈالنے کے لیے جمہوری قوتوں کا بھرپور ساتھ دیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ شہید عارف الحسینی نے جہاں اپنے مکتب اور مسلک کے پیروکاروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، وہاں پاکستان کے تمام مکاتب و مسالک کے حقوق بالخصوص مظلوم و محروم طبقات کے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کی اور اپنے اہداف کو وسیع کیا، تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے جدوجہد کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان کا ہر انصاف پسند شہری ان کا احترام کرتا ہے۔ اگرچہ ان کی جدوجہد کا عرصہ بہت مختصر تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایک اعلٰی فکر اور محبوب رہنماء کے طور پر مقبولیت حاصل کی۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مسلم ممالک پر استعماری اور سامراجی طاقتوں کے مظالم، تسلط اور تجاوز کے خلاف علامہ عارف الحسینی کی جدوجہد پاکستان کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ آپ نے قبلہ اول اور فلسطین پر اسرائیلی تسلط اور ناجائز قبضے، افغانستان پر روسی جنگ اور امریکہ کی طرف سے عراق کی پشت پناہی کرکے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور پاکستان کی دوسری دینی و سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے موقف کا حامی بنایا، جبکہ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر ہونے والی سازشوں اور پاکستان میں بیرونی قوتوں کی مداخلت اور سپر پاور کی خفیہ سازشوں سے پردہ چاک کرنے کا سہرا بھی علامہ عارف حسینی کے سر ہے۔

.....

/169